بابری مسجد کو شہید ہوئے بیس برس بعداہم انکشاف

06 كانون1/ديسمبر 2012

پانچ دسمبر کو بابری مسجد کے انہدام کی بیسویں برسی تھی۔ یہ مسجد مغل بادشاہ بابر کے حکم پر سن پندرہ سو ستائیس میں تعمیر ہوئی تھی۔
سن انیس سو بانوے میں ہندوستان میں شدت پسند ہندوؤں نے بابری مسجد کوشہید کردیا اور ہندو انتہا پسندوں نے سولہویں صدی کی شمالی ہندوستان میں ایودھیا میں واقع بابری مسجد میں توڑ پھوڑ کی۔ ہندوؤں کا کہنا ہے کہ یہ جگہ ان کے خدا راما کی جائے پیدائیش ہے اور اس جگہ مسجد بننے سے پہلے مندر تھا ادھر ہندوستان میں شائع ہونے والی ایک کتاب میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ بابری مسجد میں مورتیوں کو پلان کے تحت رکھا گیا 

بابری مسجد پر لکھی جانے والی ایک نئی کتاب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انیس سو اننچاس میں جب ’معجزاتی‘ طور پر مسجد کے اندر بھگوان رام کی مورتی ’نمودار‘ ہوئی تو اس میں انہیں لوگوں کا ہاتھ تھا جو مہاتما گاندھی کے قتل کے سلسلے میں بھی شک کے دائرے میں آئے تھے۔
کتاب کے مصنف کرشنا جھا اور دھیریندر جھا ہیں، جن کا دعویٰ ہے کہ تفصیلی تحقیق کے بعد وہ یہ معلوم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں کہ انیس سو اننچاس میں بائیس اور تئیس دسمبر کی درمیانی شب ایودھیا میں مسجد کے اندر مورتی رکھنے والے لوگ کون تھے اور اس پوری کارروائی کی سازش کس نے تیار کی تھی۔
کتاب ابھی بازار میں نہیں آئی ہے لیکن اخبار ٹائمز آف انڈیا نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ مصنفین نے عینی شاہدین اور پرانے ریکارڈز کا مطالعہ کرنے کے بعد اس رات کی منظر کشی کی ہے جب بابری مسجد کچھ ہی دیر میں مندر میں تبدیل کردی گئی تھی۔
کتاب میں کہا گیا ہے کہ اس سازش میں ضلعے کے اعلیٰ ترین سرکاری افسر کے کے نائر بھی شامل تھے۔ اس کا مقصد قوم پرست تنظیم ہندو مہاسبھا کو ایک بڑی قومی سیاسی طاقت میں بدلنا تھا۔
اس رات کے مرکزی کردار بابا ابھیرام داس تھے جن کا تعلق نروانی اکھاڑے سے تھا۔ کتاب کے مطابق مورتی انہوں نے ہی رکھی تھی۔ ان کا انتقال انیس سو اکیاسی میں ہوا اور اس وقت وہ رام جنم بھومی کو آزاد کرانے والے بابا کے نام سے مشہور تھے۔
کتاب میں کہا گیا ہے کہ ان کے دو رشتے کے بھائی اندو شیکھر جھا اور یوگل کشور جھا بھی اس رات مسجد میں موجود تھے۔

ترك تعليقك

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree