گلگت شہید آغاضیاالدین کے خانوادہ اور ممبر اسمبلی کی پریس کانفرنس

14 كانون1/ديسمبر 2012


(مورخہ 14دسمبر، برو ز جمعتہ المبارک ، بمقام: رہائشگاہِ شہید آغا سید ضیاء الدین رضویؒ ، امپھری گلگت)
محترم صحافی حضرات ۔۔۔السلام علیکم!
سب سے پہلے آپ تمام حضرات کا انتہائی مشکور ہوں کہ آپ نے اپنی بے پناہ مصروفیات میں سے وقت نکال کر یہاں تشریف لائے۔
محترم صحافی حضرات!
آج آپ کو یہاں زحمت دینے کا مقصد ایک انتہائی اور حساس مسئلے سے آپکو آگاہ کرنا ہے۔
8جنوری 2005ء کو سرزمین گلگت میں اتحاد بین المسلمین کے داعی اور پاکستان کے ایک مضبوط حامی علامہ سید ضیاء الدین رضویؒ کو ایک منظم و گہری سازش کے تحت شہید کیا گیا۔
مجھے انتہائی دکھ اور افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ سات سال کا طو یل عرصہ گزرنے کے باوجود ابھی تک آغا ضیاء الدین شہید کے قتل کیس کے پس پردہ محرکات سے ہمیں اور عوام الناس کو آگاہ نہیں کیا جارہا ہے ۔آغا ضیاء الدین رضوی قتل کیس کی سازش کہاں تیار ہوئی ، ساز ش میں کون کونسی طاقتیں ملوث تھی اور سازش کو عملی جامہ پہنانے کیلئے کن لوگوں کو مہرے کے طور پر استعمال کیا گیا۔ ان تمام سوالات کے جوابات ابھی تک منظر عام پر نہیں لائے جا سکے جس کی وجہ سے پاکستان سے محبت کرنے والے اور امن پسند عوام میں بے چینی پائی جاتی ہے ۔
جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ خطرناک دہشت گرد شاکر اللہ جو چترال میں سابق صدر جنرل (ر)پرویز مشرف پر خود کش حملوں کی منصوبہ بندی بناے کے الزام میں گرفتار ہوا اور تحقیقات کے دوران آغا ضیاء الدین رضوی شہید کے قتل میں ملوث ہونے کا اعتراف کرنے پر گلگت پولیس کے حوالہ کردیا گیا اور یہاں پر دوران تفتیش آغا ضیاء الدین رضوی شہید کے قتل کا باضابطہ اقرار بھی اس دہشت گرد نے کیا ۔ اس کیس میں شاکر اللہ کے علاوہ قتل کیس میں ملوث دیگر لوگوں پر انسداد دہشت گردی کی عدالت میں عرصہ سات سال سے کیس زیر سماعت ہے۔ مگر جان بوجھ کر ایک سازش کے تحت اس اہم اور حساس کیس کا فیصلہ سنانے میں مسلسل تاخیری حربے استعمال کئے جارہے ہیں جو معنی خیز ہے؟اور اس عرصہ میں اس اہم نوعیت کے کیس کی سماعت کیلئے چار جج تبدیل کئے جا چکے ہیں جبکہ آغا ضیاء الدین رضوی شہید قتل کیس کے ماسٹر مائنڈ قاری ندیم استوری کو اسلام آباد میں ایک عرصہ قبل گرفتار کیا جا چکا ہے مگر ہماری بار بار کی گزارشات کے باوجود تاحال ماسٹر مائنڈ قاری ندیم استوری کو گلگت منتقل نہیں کیا جارہا ہے ۔
محترم صحافی حضرات!
ایک سوچی سمجھی ساز ش کے تحت آغا ضیاء الدین رضویؒ شہید قتل کیس کے اہم ملزم کو ڈسٹرکٹ جیل کشروٹ گلگت سے ایف سی ہیڈ کوارٹر میں واقع چیتا جیل سکوار منتقل کیا گیا اور وہاں پر نہ صرف قتل کے ہائی پروفائل ملزم کو اہم شخصیت کا پروٹوکول دیا گیا ، ٹی وی، موبائل فون کی سہولیات بھی اس خطرنا ک اور اہم دہشت گرد کو فراہم کی گئیں بلکہ ایف سی اہلکاروں نے قتل کے ملزم شاکر اللہ کو اپنا پیش نماز اور خطیب مقرر کرکے باقاعدہ ان کے پیچھے نماز پڑھتے رہے ۔ یہ صرف زبانی باتیں نہیں ہیں بلکہ اس حوالے سے ہم نے بارہا صوبائی حکومت ، انتظامیہ اور پولیس کو تحریری اور زبانی آگاہ کرتے رہے اور خبردار کرتے رہے کہ ایف سی کسی بھی وقت اپنے پیش نماز کو وہاںں سے فرار کرائیگی مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے خدشات درست ثابت ہوئے اور حکومت ، انتظامیہ اور پولیس کی ملی بھگت سے شاکر اللہ ایک اور اہم دہشت گرد قیدی قاری عارف الدین جو نہ صرف دہشت گردی کی کئی وارداتوں میں ملوث تھا بلکہ یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ انہوں نے جیل میں بیٹھ کر دہشت گردوں کو ہینڈ گرنیڈ فراہم کیا ۔
محترم صحافی حضرات!
آپ کے سامنے یہ اہم انکشاف بھی کرتے ہیں کہ ایک عرصہ سے ایک کالعدم دہشت گرد تنظیم کے امیر اور معروف دہشت گرد ملک اسحاق ، شہید آغا ضیاء الدین رضویؒ قتل کیس میں ملوث اس دہشت گرد شاکر اللہ کی رہائی کیلئے کوششوں میں مصروف تھا اور گلگت شہر کی کئی اہم شخصیات سے رابطہ کرکے یہ پیش کش کرتا رہا کہ میں آٹھ کروڑ روپے تک دینے کیلئے تیار ہوں ۔ملک اسحاق نے شاکر اللہ کو فرار کرانے کیلئے اپنے منظم دہشت گرد وں کے نیٹ ورک کے زریعے کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کی ، جیل میں موجود ایف ، سی اہلکاروں اور دیگر عملہ کو بھاری رقم کے عوض شاکر اللہ کو جیل سے فرار کرایا گیاجبکہ منصوبے کے تحت بھاری رقم خرچ کرکے اسی روز گلگت شہر میں احتجاجی مظاہرے کرائے گئے تاکہ سیکورٹی فورسز شہر میں مصروف رہیں اور شاکر اللہ اور اسکے ساتھی کو با آسانی سے گلگت شہر سے نکالا جا سکے۔
محترم صحافی حضرات!
آغا ضیاء الدین رضوی کو شہید کرنے کا مقصد گلگت شہر میں دہشت گردی کو فروغ دینا تھا اور دہشت گرد جو اسلام و پاکستان دشمن ہیں اس سازش میں کسی حد تک کامیاب ہوئے۔
گلگت شہر میں شیعہ سنی کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ دونوں مکاتب فکر کے عمائدین پر امن ہیں اور علاقے میں قیام امن کیلئے ہر اول دستے کا کردار اداء کرتے رہے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہینگے۔مگر ایک دہشت گرد گروپ کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ گلگت شہر میں فرقہ واریت کو فروغ ملے اور بھائی بھائی کا دشمن بن جائے ۔
جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ کراچی یونیورسٹی ، پنجاب یونیورسٹی لاہور ، قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آبادسمیت ملک بھر کی تمام جامعات میں ہر سال یوم حسین ؑ منایا جاتا ہے اور تمام مکاتب فکر کے علما ء اس پروگرام سے خطاب کرتے ہیں اور گلگت شہر میں قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے قیام سے ابتک باقاعدگی سے یوم حسین ؑ منایا جاتا رہا ہے اور یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے کہ گزشتہ سال کے آئی یو میں یوم حسین ؑ کے پروگرام کے مہمان خصوصی ممتاز عالم دین ، وزیر اعظم پاکستان کے مشیر مولانا عطاء اللہ شہاب تھے ۔
محترم صحافی حضرات!
کونسا ایسا مسلمان ہوگا جو امام حسین ؑ سے محبت نہ رکھتا ہو ، ہر مسلمان نواسہء رسول ؐ، حضرت امام حسین ؑ سے محبت اور عقیدت رکھتا ہے ، یوم حسین ؑ منانے پر اعتراض کا سوچ بھی نہیں سکتا ۔ مگر انتہائی دکھ اور افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پورے ملک کے بر عکس گلگت شہر میں ایک ایسا گروپ بھی موجود ہے جو یوم حسین ؑ پر معترض ہوا اور اس سے بھی زیادہ دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ یونیورسٹی کی ناہل انتظامیہ نے ایک مٹھی بھر شرپسند گروپ کے دباو میں آکر یوم حسین ؑ کے پروگرام کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی ۔
یہ بات بھی آپکے علم میں لانا چاہتے ہیں کہ یکم دسمبر سے ۱۰ دسمبر تک کے آئی یو کو بند کر دیا گیا جس کے بعد اس مسئلے کے حل کیلئے ہوم سیکرٹری کی زیر نگرانی ایک اہم اجلاس ہوا جس میں دونوں مساجد بورڈز کے نمائندے، یونیورسٹی انتظامیہ کے نمائندوں کے علاوہ ڈی سی گلگت نے بھی شرکت کی ، اجلاس میں اتفاق رائے سے کے آئی یو میں ہر سال دو پروگراموں یوم حسین ؑ اور یوم مصطفی ؐ منانے کا فیصلہ کیا گیا ۔
اس متفقہ فیصلے پر قراقرم یونیورسٹی کی تمام طلباء تنظیموں نے اتفاق کر لیا تھا جس کے بعد ۱۰ دسمبر کو کے آئی یو کو دوبارہ کھول دیا گیا اور خلاف توقع یونیورسٹی انتظامیہ نے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت اچانک یوم حسین ؑ پر پابندی عائد کرنے کا باضابطہ اعلان کرکے طلباء کو اشتعال دلانے کی کوشش کی گئی مگر کے آئی یو کے طلباء نے بدھ کے روز یونیورسٹی کے اندر پرامن انداز میں یوم حسین ؑ منعقد کیا جس میں تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے طلباء و طالبات نے بھر پور شرکت کرکے ثابت کر دیا کہ یوم حسین ؑ کسی مخصوص فرقے کا پروگرام نہیں ۔
محترم صحافی حضرات!
دوسری جانب ایک مٹھی بھر شر پسند گروہ نے یوم حسین ؑ کو جواز بنا کر گلگت شہر کی مختلف شاہراوں کو بلاک کرکے پرتشدد احتجاج شروع کردیا اور درحقیقت یہ عناصر اسی روز چیتا جیل سکوار سے شہید آغا ضیاالدین رضوی قتل کیس میں ملوث ملزم شاکر اللہ کے فرار ہونے کے واقعہ سے توجہ ہٹانے کی سوچی سمجھی سازش کا حصہ تھا۔
بدھ کے روز سیکورٹی فورسز اور شرپسندوں کے مابین ہونے والی فائرنگ سے جو انسانی قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں اس پر ہمیں بے حد افسوس ہے ۔ حکومت اور انتظامیہ کے اہلکاروں کے علم میں ہے کہ روڈ کس کی ایماء پر بلاک کئے گئے اور بھاری ہتھیاروں سے سیکورٹی فورسز اور نہتے شہریوں پر فائرنگ کس کی طرف سے کی گئی مگر افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ میڈیا پر اسے دو طلباء گروہوں کا تصادم قرار دیا جاتا رہا حالانکہ یہ ایک شرپسند گروپ اور سیکورٹی فورسز کے مابین تصادم تھا۔
اب یہ حکومت اور انتظامیہ کا فرض ہے کہ وہ تحقیقات کریں کہ دہشت گردوں کے پاس اتنا بھاری اسلحہ کہاں سے آیا ۔
یہاں یہ بات بھی آپکے علم میں لانا چاہتے ہیں کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے نااہلی اور سازش پر پردہ ڈالنے کیلئے یونیورسٹی سے16بیگناہ و پر امن طلباء کو بے دخل کیا گیا ہے ۔ جس کی پر زور مزمت کرتے ہیں اور یہ بھی واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ہم اس طرح کہ غیر منصفانہ اور یکطرفہ فیصلے کو کسی صورت قبول نہیں کرینگے۔
محترم صحافی حضرات!
ہم گزشتہ دنوں ۱۶ ایم پی او کے تحت بیگناہ و مہذب شہریوں او رملت جعفریہ کے کارکنان کی گرفتاری کو بھی بلا جواز اور غیر سنجیدہ اقدام تصور کرتے ہوئے انتظامیہ سے فی الفور تمام گرفتار شدگان کی فی الفور رہائی کا بھی پر زور مطالبہ کرتے ہیں۔
ہم یہاں واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ہم اس علاقے میں مستقل قیام امن ، اتحاد بین المسلمین کے فروغ کیلئے ماضی کی طرح آئند ہ بھی اپنا بھر پور کردار اداء کرتے رہینگے اور ہماری تمام مکاتب فکر کے سنجیدہ طبقات اور علماء و عمائدین سے یہ اپیل ہوگی کہ علاقے میں اتحاد و وحدت کے فروغ اور مستقل قیام امن اور انہتاپسندی و دہشت گردی کے مکمل خاتمہ اور اپنے حقوق کے حصول و تحفظ کیلئے ملکر بھر پور عملی کردار اداء کیا جائے۔
خدا ہم سب کا حامی و ناصر ہو!
( دیدار علی ، ممبر گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی و سید نظام الدین رضوی و خانوادہ شہید علامہ سید ضیاء الدین رضوی گلگت)

ترك تعليقك

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree