یہ کیسا موت کا رقص ہے۔۔۔؟

06 آذار/مارس 2013

سانحہ عباس ٹاون اور کراچی میں شدید دہشتگردی کے حوالےسے جیوز نیوز سے لیا گیا ایک مضمون

...محمد رفیق مانگٹ...
یہ کیسا موت کا رقص ہے ،ہر انکھ اشک بار،ہر دل غم زدہ ہے،مرنے والے کو نہیں پتہ اسے کیوں مارا گیا،اب درندوں سے خوف نہیں انسانوں سے ڈر لگتا ہے۔کوئی عدلیہ کی بحالی کے دوران ان سریلے ترانوں کے خالقوں کو آواز دے جو یہ کہتے تھے کہ ریاست ہوگی ماں کے جیسی۔۔۔ذرا ان جمہوری سرخیلوں کو بلاوٴ جو جمہوری دور کو دودھ اور شہد کی بہتی نہروں سے تشبیہ د یتے ہیں مگر ان کی طرز حکمرانی نے ملک میں خون کی ندیاں بہا دیں، ملک میں کوئی ایسا گھر نہیں جہاں غیر فطری موت نے دستک نہ دی ہو۔قبرستان آباد ہوگئے،لٹھے کا کاروبار چل نکلا،تابوت بنانے والوں کی چاندی ہوگئی،گورکنوں کے گھر خوشحالی آگئی ہے، مردہ خانے کم پڑ گئے ہیں،گھر ویران اور فلیٹ سستے، مگر قبروں کی قیمتیں چار گنا ہو گئی ہیں۔ کس عزم سے ہم دہشت گردی کی جنگ لڑ رہے ہیں ،مرنے والے بھی ہم،مارنے والے بھی ہم۔پھر انتخابات کا دنگل سجے گا،پھر شعبدہ بازوں کے بازار لگیں گے،پھر خوش کن نعروں کے ساتھ لوگوں کے جذبات سے کھیلا جائے گا،پھر انہیں مستقبل کے روشن کی نوید سنائی جائے گی۔ ذرا ان ان شعبدہ بازوں کے سامنے موت کے اعدادشمار بھی پیش کریں، کہ ان کی شاندار حکمرانی، بہترین پالیسیوں اور اعلیٰ ظرفی نے کتنے قبرستان آباد کر دیے۔ موت برحق ہے لیکن غیر فطری موت کا اختیار شاید درندوں کو بھی نہیں، پھر ہم کس مہذب معاشرے کی عکاسی کرتے ہیں۔ملکی اور غیر ملکی تھنک ٹینکس اور ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق ملک بھر جاری دہشت گردی واقعات میں2003ء سے2013ء کے درمیان 46500پاکستانی شہری جاں بحق ہوئے جن میں تقریباً پانچ ہزار سیکورٹی فورسز کے اہلکار بھی شامل ہیں، 2013ء کے ابتدائی دو ماہ میں1350افراد دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئے، پاکستان میں2013ء میں پر فرقہ واریت کے40سے زائد پرتشدد واقعات میں تین سو سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔1989سے2013ء کے درمیاں فرقہ واریت کے لگ بھگ2785سے زائد واقعات ہوئے جن میں4450سے زائد افراد لقمہ اجل بنے جب کہ 8700سے زائد زخمی ہوئے۔ ڈرون حملوں سے بھی موت کا جی بھر کھیل کھیلاگیا۔ 2004 ء سے2013ء کے درمیان پاکستانی سرزمین پر364 امریکی ڈرون حملے کیے گئے جن میں3573افراد ہلاک جب کہ1463زخمی ہوئے،ان ہلاکتوں میں197بچے بھی شامل ہیں جب کہ امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کا کہنا ہے کہ امریکا نے ڈرون حملوں میں4700افراد ہلاک کیے۔ ان میں چند ہلاکتیں یمن کی ہیں باقی تمام کارروائیاں پاک افغان سرحد پر کی گئی۔2001ء سے2013ء تک ڈاکٹروں پر32حملے کئے گئے جن میں 30 سے زائد ڈاکٹر جاں بحق اور دو زخمی ہوئے۔2012ء میں سب سے زیادہ دس جب کہ 2010ء اور2011ء میں پانچ پانچ ڈاکٹروں کو موت کی نیند سلادیا گیا۔ رواں برس کے ابتدائی دو ماہ میں چار ڈاکٹر وں کو ابدی نیند سلایا گیا۔2001ء سے2013ء کے دروان وکلاء پر13 قاتلانہ حملوں میں35وکلاء جاں بحق اور134زخمی ہوئے۔2007ء میں سب سے زیادہ16وکلاء کو جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔پاکستان میں92سے زائد صحافیوں کو موت کی نیند سلادیا گیا ۔کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کا نہ ختم ہونے والاسلسلہ بھی بھیانک روپ کے ساتھ جاری ہے۔ رواں برس کے ابتدائی دو ماہ میں 460افراد ٹارگٹ کلنگ کا شکا رہوئے،ان میں50سے زیادہ تاجر قتل اور زخمی ہوئے۔گزشتہ پانچ برسوں میں کراچی میں لگ بھگ 8ہزار افراد ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوئے جن میں صرف گزشتہ برس 2300 افراد ٹارگٹ کلنگ کا شکا ر ہوئے۔رواں برس24فروری تک 8خودکش دھماکوں میں228افراد جاں بحق324 زخمی ہوئے۔2012ء میں39خودکش دھماکوں میں365افراد جاں بحق 607زخمی،2011ء میں41خودکش دھماکوں میں628افراد جاں بحق 1183زخمی،2010ء میں49خودکش دھماکوں میں1167 افراد جاں بحق اور2199زخمی ،2009ء میں76خودکش دھماکوں میں949جاں بحق 2356زخمی،2008ء میں59خودکش دھماکوں میں893جاں بحق 1846زخمی،2007ء میں54خودکش دھماکوں میں765جاں بحق1677زخمی،2006 ء میں7خودکش دھماکوں 161جاں بحق 352زخمی،2005ء میں4خودکش دھماکوں میں84جاں بحق219زخمی،2004ء میں 7خودکش89جاں بحق321زخمی،2003ء میں2خودکش دھماکو ں میں69جاں بحق103زخمی اور2002ء میں ایک خودکش دھماکے میں15افراد جاں بحق اور34زخمی ہوئے۔ یہ تو جانی نقصان کے کچھ اعداد وشمار تھے،معاشی نقصان80ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، سماجی اورنفسیاتی نقصان تو ایک الگ المیہ ہے۔

کیا کسی کو سزا ملی یا کوئی قاتل بھی تختہ دار پر لٹکا یا گیا۔ موت کا بازار گرام کرنے والے کہاں سے آئے کہاں گئے سب خاموش ہیں۔الزام تراشی اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے زیادہ بات بڑھ نہیں پائی۔ انسانوں کے بنائے ہوئے آئین اور قوانین آسمانی کتابیں اور صحیفے نہیں کہ انہیں تبدیل نہیں کیا جاسکتا،ان کا احترام شہریوں پر فرض ہے لیکن جو آئین اور قانون انسانی جان کو تحفط نہ دے سکے تو پھر ہم کس چیز کی سلامتی کے ترانے گاتے ہیں،جس ماں کا گوشہ چھن جائے اسے کس وطن کا ترانہ یاد دلاتے ہیں، جس کا گھر اجڑ جائے اسے کس ملک کی سلامتی کی وعید سنائی جاتی ہے،کس جمہوریت کے گُن گائے جاتے ہیں ۔ان قاتلوں اور دہشت گردوں میں سے ملک بھر میں صرف 50کو سر عام پھانسی دی جاتی کراچی،لاہور،پشاور،کوئٹہ اور اسلام آباد میں کسی کھلے مقام پر دس دس افراد کو سرعام تخت دار پر لٹکایا جاتا اور اسے براہ راست ٹیلی ویژن پر دکھایا جاتا تو آج ہزاروں معصوم شہریوں کی جان بچ جاتی، یہ بھی معلوم ہے کہ اس طرح کی پھانسی کا آئین میں کوئی ذکر نہیں،ملکی اور غیر ملکی انسانی حقوق کی تنظیمیں وا ویلا مچاتی ہیں، شہریوں اور بچوں کی نفسیات پر منفی اثرات کے مرتب ہونے کی باتیں کی جاتی ہیں۔۔۔۔ذرا یہ بھی تو بتاوٌ کہ ہر روز جو گاجر مولی کی طرح انسانوں کو کاٹا جا رہا ہے،کیا اس کو ٹی وی نہیں دکھاتا، ایسے دل دوز واقعات کو دیکھ کر ہماری آنکھیں پتھرا چکی ہیں، جب صورت حال انہونی شکل اختیار کر جائے،اور معاملات اور مسائل کا حل مروجہ قانون اور طریقہ کار سے نہ نکل سکیں تو پھر غیر معمولی راستے اپنائے جا سکتے ہیں۔ آپ آئین اور قانون کے دائرے سے باہر نہیں نکل سکتے تو پھر قبرستان آباد کرتے جاوٴ۔ انسانی جان سب سے مقدم ہے اگر غیر معمولی اقدام سے ملک میں سکون آسکتا ہے تو یہ سودا برا نہیں ، سپریم کورٹ بھی ایسا حکم دے سکتی ہے.شکریہ جیوز نیوز ویب سائیڈ

ترك تعليقك

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree