سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کا سانحہ عباس ٹاون کے حوالے سے خصوصی انٹریو

06 آذار/مارس 2013

DSCN4138سانحہ عباس ٹان کے حوالے سے علامہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ یہ المناک سانحہ ہے اس سانحہ میں چند ماہ کے بچے شہید ہوئے ہیں جوانوں سمیت خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد اس میں وموفود ہے ۔کراچی میںیہ کوئی پہلی دہشت گردی کی کاروائی نہیں ہے اس سے قبل بھی ایک سکیورٹی ادارے کے دفتر پر ایسا ہی شدید حملہ ہوا تھا اسکلوسف پھٹ چکا ہے ۔اب یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ سیاست دان ناکام اور حکومت ناکام ہو چکے ہیں ۔پانچ سال حکومت کرنے کے بعد اب ہمارے دوست کہتے ہیں کہ ماہ میں کیئر ٹیکر حکومت حالات ٹھیک کریجو پانچ سال میں ٹھیک نہ کر سکے ۔حکومت میں کم سے کم اتنی حیا ہوتی کے گورنر استعفی دیتے ،وزیر اعلی استعفی دیتے ،آئی جی کو اور ڈی جی رینجزر کو ہٹاتے ۔اقتدار میں آنے کے بعد ملکی سیاسی جماعتوں سمیت قانون نافذ کرنے والے ادارے(پولیس و رینجرز) ملک کو لوٹ رہے ہیں کھا رہے ہیں ۔ 
صحافی کا کہنا تھا کیا وزیر اعلی سندھ میں اتنی حمت ہے کہ وہ ڈی جی ریجرز کو ہٹا سکے۔۔۔
یہاں تو حکمران بے حسی کی چادر اوٹھے ہوئے ہیں اتنے بڑے سانحہ ہونے کہ بعد ان بے حسوں میں اتنی اخلاقی جئرت نہیں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں سے سبک دوش ہو جاتے ،انھوں نے حکومت اور فیدرل مینسٹر رحمان ملک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ رحمان ملک وفاقی و زیر داخلہ نہیں بلکہ وزیر اطلاعات کے کام انجام دیتے ہیں وہ دھماکوں کی پیشگی اطلاع تو دیتے ہیں مگر دہشت گردوں کے خلاف کو ئی کاروائی نہیں کرتے ہیں سانحہ کے بعد ان حکمرانوں میں اتن جئرت ہونی چاہیے تھی کہ آئی جی سندھ کو ہٹاتے ڈی جی رینجرز کو ہٹاتے یہ تمام ناکام ہوچکے ہیں ۔۔
ان اس کا ایک حل ہے یا فوج کراچی میں آئے اور پورے ملک میں ان دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشن کیا جائے کالعدم جماعتوں اور وہ دہشت گرد جو باڈر کے ٹھرٹ کو ہمارے ملک میں لیکر آگئے ہیں اور کم از کم ہمارے جرنیلوں کو جو اس ملک کے سپاہ سالار سمجھے جاتے ہیں بلخصوص آرمی چیف صاحب جن کی ذمہ داری ملک کی حفاظت ہے آخر وہ کب آنکھیں کولیں گے کیا ان کے گھروں میں بچے نہیں ہیں۔۔
صحافی نے پوچھا کہ وہ بھی کہتے ہیں کے میں آئین اور قانون کا پابند ہوں ۔علامہ ناصر عباس کا کہنا تھا کے کا کیا آئین کا آرٹیکل 245اس میں موجود نہیں ہے۔ وہ سویلیئنایڈمنسٹرییشن کہے گی تو ۔۔۔
سولیئن ایڈمنسٹریشن اگر پریشردے کر بہت سے کام کروا سکتی ہے تو ملک بچانے کیلئے یہ کام نہیں کیا جاسکتا۔ یہ آپ نے بڑی اہم بات کی ہے ۔صحافی نے مخاطب کرتے ہوئے پوچھاکہ کیا سانحہ کراچی ایک بڑی خونریزی کا نکتہ آغاذ ہے؟
علامہ ناصر عباس نے کہا کے اگر جوفوج آٹی ہے اور across the board آپریشن کرتی ہے اور ان ایجنسیوں کو جن کے اندر کالی بھیڑوں کا سفایا بھی کیا جانا چاہیے ۔کیونکہ ان اداروں میں بھی غیر ملکی ایجنسیوں کا نفوز برھتا جا رہا ہے جس کی واضح مثال کامرہ بیس ،مہران بیس اور پاکستان نے وی میں موجودغیر ملکی اجنسیوں کو سپورٹ کرنے والے دہشت گرد موجود ہیں اوراس میں سر پہرست انڈیا کی ایجنسی اور دوسرے پاکستان دشمن ممالک طاقتوں کا نفوذ بڑھ گیا ہے کہ وہ پورے ملک کو آپریٹ کررہے ہیں ۔ہمارے جی ایچ کیو پر حملہ ہوتا ہے ہماراپوری دنیا میں مذاق اٹھایا جاتا ہے۔سانحہ عباس ٹان طرف دوبارہ اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سانحہ پر لوگوں کے دل ذخمی ہیں لہذا اب کم از کم اتنا ہونا چاہیے کے وزیر اعلی سندھ ،گورنر سندھ،ڈیجی رینجرز،آئی جی سندھ کو ہٹایا جائیاور انہیں ہٹانے کے بعد ایسے لوگ لائے جائیں جن کم از کم انسانیت ہو وہ عوام کے درد کو محسوس کر سکیں اور دہشت گردی کے خلاف جئرت مندانہ اقدامات کر سکیں ۔۔۔۔
صحافی !حکومت نا اہل ،خفیہ ادارے ناکام عوام کو کیا کرنا چاہیے ؟
علامہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ اگر ایسے اقدامات نہیں ہوسکتے تو پھر امن لشکر بنا چاہیے اگردہشت گردی کے خلاف فاٹا کے علاقے میں امن لشکر بنائے جاتے ہیں تو دہشت گرد پورے ملک کو قزیرستان فاتا بنا رہے ہیں لہذا امن لشکر بنے چاہیے پاکستانی عوام خود اٹھیں اگر حکومت نے ہوش کے ناخن لے ایسے اقدامات نہیں کیئے تو مجبورن پورے پاکستانیوں کو ملک بچانے کیلئے خود باہر نکلنا پڑے گا۔یہ ہماری مادر وطن ہے۔یہ کسی جنرل کا پاکستان نہیں ہے ،یہ کسی سیاسی لیڈر ان کا پاکستان نہیں ہے،ہمیں افسوس ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں امریکہ حملے کرتا ہے اور ہمارے وطن کی غیرت کہاں گئی ہے۔
صحافی !کیا الیکشن سے پہلے منڈلاتے خطرات سچ ہورہے ہیں؟
کیا فرقہ واریت کی آڑ میں ہونے والی دہشگردی کے پیچھے کیا ایجنڈا ہے؟
پاکستان کا نظام حکومت اتنا کمزار ہے کہ یہاں دہشت گرد بکتے ہیں ،خودکش حملہ ور ،ٹارگٹ کلر ،یہاں پیسوں میں خریدے جاتے ہیں انہیں انڈیہا بھی استعمال کر سکتا ہے ہے انھیں امریکہ و اسرائیل بھی استعمال کر سکتے ہیں اور ہر وہ طاقت جو اس ملک کی دشمن ہوں ایسے کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں پڑھتی ملکی سالمیت کو عدم استحکام سے دو چار کرنے کیلئے ایسی کاروائیاں کی جاتی ہیں ۔۔کراچی میں قتل و غارت کا تعلق پاکستان کی خارجہ پالیسی سے ہیاس ریجن میں جب سے امریکہ آیا ہے کہ یہاں کبھی سکھ چین پاکستانی عوام نے نہیں دیکھا دنیا میں جہاں بھی امریکہ آیا وہاں کے حالات یکسر خراب ہوئے ۔لیکن ہم اس بات سے یہ نہیں کہہ سکتے کے ہم اپنے اداروں کے ذریعہ ہی ان کا مقابلہ کرنا ہے اور اپنے اداروں میں سے کالی بھیڑوں کا سفایا کرنا ہے اپنے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہیں اداروں میں امریکہ کے خلاف کھلے تصادم کی بھی صورت نہیں لانی بلکہ ان کو مضبوط بنانا ہے میں پھر کہوں گاکہ یہ ملک کسی جنرل،سیاست دان کا نہیں اور یہ وقت ہے کہ ہماری عوام اٹھ کڑے ہونا ہوگا سول سوسائٹی کو ایسے اٹھنا ہو گا جیسے چیف جسٹس کو بھال کروانے کیلیے اتھے تھے امن کیلئے ملک بچانے کیلئے اور ملک کو ان نااہل حکمرانوں کے ہاتھ سے نکالنے کیلئے اس وقت ملک میں تین قسم کی مافیا ہے ۔سیاسی مافیا ،دہشت گردوں کی مافیا اور سکیورٹی اداروں میں موجودملک دشمن کالعدم دہشت گردوں کو سپورٹ کرنے والی کالی بھڑون کی مافیا۔ان تینوں طاقتیں عالمی استقبار امریکہ اسرائیل اور ملک دمشن قووتقں کے ہاتھوں مسلسل استعمال ہو رہی ہیں ان ہی کی وجہ سے ملک عدم استحکام کا شکار ہیں ۔لہذا ضرورت یہ ہے کے محب و طن سیاسی ،مذہبی،سول سوسائٹی،ان دتینوں چیزوں کے خلاف اٹھیں اور چینج لے کر آئیں ۔
علامہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ پانچ سال یہ نالائق حکومتیں یہ توقع رکھتے ہیں کے یہ لوگ پھر سے اپنی حکومت لائیں گیاور میں پاکستان کی عوام سے یہ اپیل کرتا ہوں کے آئندہ الیکشن میں ان کیپیٹل اور نااہل جماعتوں کو ووٹ نہ دیں ۔
اور پوری پاکستانی عوام کو اس جمعہ کو یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہیے شہیدو کے خون سے وفا کے طور پر،وطن سے محبت کے طور پر ،قومی عحدت کے طور پر،اس کو منانا چاہیے دہشت گردی کے خالف نفرت کے خلاف منانا چاہیے تاکہ دہشت گرد یہ محسوس کریں کے وہ جو اس ملک میں بد امنی پھیلانا چاہتے ہیں عوام میں مایوسی ڈالنا اور مذہبی فرقہ واریت اور نفسہ نفسی پھیلانے میں ناکام ہو چکے ہیں

ترك تعليقك

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree