بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کیلئے ہر ممکن کوشش کرونگا، سید محمد رضا

15 أيار 2013

raza rizviمجلس وحدت مسلمین کے نومنتخب رکن بلوچستان اسمبلی کا ’’اسلام ٹائمز‘‘ کیساتھ خصوصی انٹرویو‌ میں کہنا تھا کہ ہمارے مخالف یہی کہتے ہیں کہ ہم صرف ایک خاص فرقہ کی نمائندگی کرتے ہیں اور فرقہ واریت کو ہوا دیتے ہیں۔ لیکن حقائق بالکل اس کے برعکس ہیں

کیونکہ ہماری جماعت کا نام ہی مجلس وحدت مسلمین ہے۔ ان انتخابات میں پاکستان کے مختلف علاقوں میں ایم ڈبلیو ایم نے 2 اہلسنت برداران کی بھرپور حمایت کی۔ اس کے علاوہ پاکستان میں پچھلے کئی سالوں‌ سے اہل تشیع کو شیعہ ہونے کی بنیاد پر مارا جا رہا ہے لیکن ہماری طرف سے کسی بھی قسم کا کوئی ریکشن نہیں آیا، کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ دشمن چاہتا یہی ہے کہ پاکستان میں شیعہ سُنی فساد ہو، جبکہ ہماری جماعت صرف اتحاد کی بات کرتی ہے اور کرتی رہے گی۔
بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کیلئے ہر ممکن کوشش کرونگا، سید محمد رضا

سید محمد رضا عرف آغا رضا کا تعلق کوئٹہ سے ہے، آپ نے ایم اے کی ڈگری بلوچستان یونیورسٹی سے حاصل کی۔ آپ مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ کے اہم رکن ہیں اور علامہ سید ہاشم موسوی کے شانہ بشانہ میدان عمل میں مصروف رہے ہیں۔ الیکشن 2013ء میں مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے حلقہ پی بی 2 علمدار روڈ سے آپ کو ٹکٹ ملا۔ جس کے ذریعے آپ نے انتخابات میں حصہ لیا اور اس حلقہ سے بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ ’’اسلام ٹائمز‘‘ نے آپ کی اس کامیابی اور پاکستان میں حالیہ انتخابات کے حوالے سے ان سے گفتگو کی ہے، جو قارئین کیلئے پیش خدمت ہے۔ (ادارہ)

اسلام ٹائمز: انتخابات میں کامیابی کے بعد اپنے حلقے کے عوام سے کیا کہنا چاہیں گے۔؟
سید محمد رضا: سب سے پہلے تو میں تمام ووٹروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، چاہے انہوں نے میرے حق میں ووٹ کاسٹ کیا یا میرے خلاف ووٹ دیا ہو۔ بہرحال انتہائی نظم و ضبط اور انتہائی منظم انداز میں‌ لوگ اپنے گھروں سے باہر نکلے اور اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔

اسلام ٹائمز: آپ کے خیال میں آپ کی کامیابی کی کیا وجوہات ہوسکتی ہیں۔؟
سید محمد رضا: میرے خیال میں اس کامیابی کی دو اہم وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ عام لوگوں میں ایم ڈبلیو ایم کی بے پناہ مقبولیت ہے۔ یہ جماعت اپنی گذشتہ کارکردگی کی وجہ سے لوگوں میں مقبول تھی، کیونکہ مجلس وحدت مسلمین نے شروع دن سے ہی عام لوگوں کیلئے خدمات انجام دی ہیں۔ اس سے قبل کہ ہم الیکشن میں حصہ لیتے اس پر ہم نے کافی بحث و مباحثے کئے۔کہ آیا ہمیں الیکشن میں حصہ لینا چاہیئے یا نہیں، اور یہ عوامی دباؤ کا ہی نتیجہ تھا کہ ہم انتخابی میدان میں اُترے۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ ہم نے اپنی الیکشن کیمپین کا آغاز کسی بھی نفرت کی بنیاد پر نہیں کیا اور شاید لوگوں کو ہماری جماعت میں یہی تبدیلی نظر آئی۔ مجھے عوام کی طرف سے کافی حد تک پذیرائی مل رہی تھی، وہ مجھے یہی کہتے تھے کہ آپ ایک منفرد شخصیت کے حامل شخص ہیں۔ جو کسی کی کردار کشی نہیں کرتے۔ اور اگر کوئی آپ پر اعتراض بھی کرتا ہے تو آپ مناسب انداز میں اُسکا جواب دیتے ہیں، تو میرے خیال میں انہی دو اہم وجوہات کی وجہ سے ہماری کامیابی ممکن ہوئی۔

اسلام ٹائمز:‌ کیا آپ کو یقین تھا کہ آپ پہلی مرتبہ انتخابی میدان میں اُتر کر کامیابی حاصل کرلیں گے۔؟
سید محمد رضا: مجھے کافی حد تک یقین تھا کہ ہم انشاءاللہ جیتیں گے، کیونکہ جیسا کہ میں نے آپ کو بتایا کہ عوام ہی کے دباؤ کی وجہ سے ہم نے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تھا اور الیکشن خالصتاً عوامی پروسس ہی ہے۔

اسلام ٹائمز: کہا یہ جا رہا ہے کہ اگر آپ دیگر جماعتوں کیساتھ قومی مفاد کی خاطر اتحاد کرلیتے تو پی بی6 سمیت قومی اسمبلی کی نشست بھی مجلس وحدت مسلمین جیت سکتی تھی، اس بارے میں کیا کہیں گے۔؟
سید محمد رضا: آپ اتحاد کی بات کر رہے ہیں۔ ہزارہ ٹاؤن میں اگر آپ کو معلوم ہو تو ہم پی بی 6 سے قومی مفاد کی خاطر ہی دستبردار ہوئے تھے اور اپنے اُمیدوار جعفر حسین کو بیٹھا دیا تھا۔ ہم نے اپنے اختیارات کو گرینڈ قومی کمیٹی کے ہی سپرد کیا تھا۔ اور قوم پرست جماعت ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ بھی ہم نے بات چیت کی اور الیکشن سے قبل میں نے اُنہیں ایک بہترین فارمولا دیا تھا۔ اس فارمولے کا ذکر میں نے جلسہ عام میں بھی کیا تھا کہ بجائے اسکے کہ ہم صرف ایک سیٹ پر اپنا زور لگائیں ہمیں چاہیئے کہ چار نشستوں پر ہم اتحاد و اتفاق سے لڑیں اور میں نے ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے چئیرمین کو باقاعدہ فون کیا اور اُن سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔ اس ضمن میں ہم نے باقاعدہ ایک وفد تشکیل دیا، تاکہ اپنے درمیان تمام اختلافات کو حل کیا جائے۔

اسلام ٹائمز: انتخابی عمل دوران کیا مشکلات پیش آئیں۔؟
سید محمد رضا: ہم نے بھرپور کوشش کی کہ انتخابی عمل میں بھائی چارے کی فضاء قائم رہے اور ہماری کوشش یہی تھی کہ الیکشن کے دن کسی بھی پولنگ اسٹیشن پر کسی قسم کی بدنظمی نہ ہو، کیونکہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ ہمارے کسی بھی قسم کے رویے سے ہمارے دوسرے دوست ناراض ہوں۔

اسلام ٹائمز: آپکے مدمقابل دو مخلتف جماعتوں کے اُمیدواروں نے انتخابی نتائج کو مسترد کر دیا ہے، تو کیا اُن کے احتجاج سے آپکی موجودہ پوزیشن پر کوئی اثر پڑے گا؟ اور کیا یہ اُنکا ایک درست اقدام ہے۔؟
سید محمد رضا: میرے خیال میں اس سے کسی قسم کا کوئی فرق نہیں پڑے گا، اور اس بارے میں میں کچھ نہیں کہہ سکتا کہ آیا یہ اُن جماعتوں کا درست فیصلہ ہے یا غلط۔، یہ بالکل انکا ذاتی فیصلہ ہے۔ اگر پاکستان کا آئین اُن کو اجازت دیتا ہے تو اُنہیں مکمل حق حاصل ہے کہ وہ احتجاج کریں۔ لیکن جیسا کہ آپ نے کہا کہ چند پولنگ اسٹیشنز کے نتائج پر انہیں تحفظات ہیں تو میرے مطابق اگر وہ ری کاؤنٹنگ بھی کرائیں تو ان موجودہ اُمیدواروں‌ کی پوزیشن پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔

اسلام ٹائمز: آپ کی پارٹی پر فرقہ وارانہ جماعت ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے، اس بارے میں آپکے کیا کہیں گے۔؟
سید محمد رضا: ہمارے مخالف یہی کہتے ہیں کہ ہم صرف ایک خاص فرقہ کی نمائندگی کرتے ہیں اور فرقہ واریت کو ہوا دیتے ہیں۔ لیکن حقائق بالکل اس کے برعکس ہیں، کیونکہ ہماری جماعت کا نام ہی مجلس وحدت مسلمین ہے اور ان انتخابات میں پاکستان کے مختلف علاقوں میں ایم ڈبلیو ایم نے 2 اہلسنت برداران کی بھرپور حمایت کی۔ اس کے علاوہ پاکستان میں پچھلے کئی سالوں‌ سے اہل تشیع کو شیعہ ہونے کی بنیاد پر مارا جا رہا ہے لیکن ہماری طرف سے کسی بھی قسم کا کوئی ریکشن نہیں آیا، کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ دشمن چاہتا یہی ہے کہ پاکستان میں شیعہ سُنی فساد ہو، جبکہ ہماری جماعت صرف اتحاد کی بات کرتی ہے اور کرتی رہے گی۔

اسلام ٹائمز: نئی حکومت کے آنے سے امن و امان کی صورتحال میں کس حد تک بہتری آسکتی ہے۔؟ سید محمد رضا: کسی بھی حکومت میں اصل کردار رولنگ پارٹی کا ہوتا ہے۔ لہذا ہمیں دیکھنا ہوگا کہ بلوچستان کی رولنگ پارٹی کس حد تک امن و امان کی صورتحال پر سنجیدہ ہے۔ ابھی تک تو انتخابی نتائج بھی مکمل طور پر نہیں آئے۔ بلوچستان میں ماضی میں بھی مخلوط حکومتیں بنی ہیں۔ اب امن و امان کی صورتحال کیلئے ہمیں دیکھنا ہوگا کہ حکومت کون بنائے گا۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ دہشتگردی کا جواب اسلحہ سے نہیں دیا جاسکتا، اور میرے خیال میں اب تک اتنی بالغ نظری ہر سیاسی جماعت میں آگئی ہوگی کہ اگر وہ پاکستان کی بقاء چاہتے ہیں تو سب سے پہلے دہشتگردی کے مسئلے کو حل کرنا ہوگا۔

اسلام ٹائمز: آپ پاکستان اور بالخصوص بلوچستان میں سب سے بڑی تبدیلی کیا دیکھنا چاہتے ہیں۔؟
سید محمد رضا: میرا تو یہی خواب ہے کہ پاکستان ہر مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کیلئے امن کا گہوارہ بنے، کیونکہ جب تک امن و امان نہیں ہوگا تب تک ملکی بقاء کو خطرہ لاحق رہے گا۔

اسلام ٹائمز: بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہونے کے ناطے آپ کس حد تک عوام کی توقعات پر پورا اُتریں گے۔؟
سید محمد رضا: کسی بھی معاشرے میں تبدیلی راتوں رات نہیں آسکتی۔ کسی بھی پروسس کیلئے کافی وقت درکار ہوتا ہے اور ایک عوامی خادم ہونے کی حیثیت سے مجھ پر بہت سی ذمہ داریاں‌ عائد ہوتی ہیں۔ لہذا اُن توقعات پر پورا اُترنا اور خاص طور پر کر امن و امان کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے کافی وقت درکار ہے۔ لیکن انشاء اللہ میری بھرپور کوشش ہوگی کہ میں عوام کی توقعات پر پورا اُتروں۔

ترك تعليقك

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree