کئی دہائیوں کے بعد سیاسی عمل کا کامیاب آغاز . الیکشن 2013ء

21 أيار 2013

mwm.election2013mالیکشن 2013ء سے قبل کئی دہائیوں تک پاکستان کی پانچ کروڑ شیعہ عوام ملکی سیاسی عمل میں کوئی خاص کردار نہیں رکھتی تھی بلکہ الیکشن کے دن و الیکشن سمیت تمام سیاسی عمل سے من حیث مکتب لا تعلق نظر آتے تھے۔ شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی کے دور میں ملت تشیع پاکستان نے ایک بھرپور سیاسی کردار ادا کرنے کا آغاز کیا تھا جو آپ کی شہادت کے بعد بالکل معطل ہو گیا۔ 


2013ء کے الیکشن میں مجلس وحدت مسلمین (جو کہ اپنی تشکیل کے صرف چار سال بعد ہی ملت کو سیاسی عمل میں وارد کر چکی ہے )نے نہ صرف ملت تشیع کو اس سیاسی لاتعلقی اور مایوسی سے نکالا بلکہ ملت تشیع کو غیر متوقع سیاسی کامیابیاں بھی دیں جو ملک میں پہلے سے انجینئرڈ شدہ الیکشن کے سبب دیگر جماعتوں کی کامیابیوں کی طرح پھیکی پڑ گئیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس الیکشن میں ملکی تاریخ کی بدترین دھاندلی کی گئی جس کی وجہ خطے سے امریکی افواج کا انخلا اور عالمی منظر نامے میں تبدیلی ہوتی پالیسی بتائی جاتی ہے، جو ایک الگ بحث کی متقاضی ہے۔ 
مجلس وحدت مسلمین نے شروع سے ہی اپنی سیاسی حکمت عملی میں چند چیزوں کو انتہائی اہمیت دی تھی جن میں سے اہم ترین چیز ملت کو سیاسی عمل کی جانب گامزن کرنا اور اس میں اپنے اہم کردارکر ادا کرناتھا جس کا تذکرہ بار بار سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین نے اپنے خطابات میں کیا تھا۔ آپ کے یہ جملے اس قدر مشہور ہوگئے کہ عوام نے اس اپنی رنگ ٹیون تک بنالیا ’’دوستو! جس طرح ہم عزاداری میں اکٹھے ہوتے ہیں اسی طرح ہمیں سیاسی طور پر بھی اکٹھا ہونا ہو گا، یہ ووٹ کسی پارٹی کا نہیں، کسی نالی کے لیے نہیں، ہم اپنے ووٹ کو اپنے دین، ملک اور کربلا کے نظریئے کی ترویج و مدد کے لیے استعمال کریں گے۔ جس سیاسی پارٹی نے کسی دہشت گرد کو امیدوار بنایا ہم اسے ووٹ نہیں دیں گے،،
یعنی ووٹ کا استعمال کسی پارٹی یا سیاسی ھیاھو کی لپیٹ میں آئے بغیر شعوری ہونا چاہیے ۔ ووٹ ایسے
افراد کو دیں جو وطن دوست، دیندار اور شدت پسندی کے مخالف ہوں۔ 
اگر ہم مجلس وحدت مسلمین کی الیکشن 2013ء پالیسی کو دیکھیں تو ہمیں اس میں یہی حکمت عملی نظر آتی ہے۔ الیکشن سے قریب ایک ماہ قبل پورے ملک میں اسی حکمت عملی کے تحت جدوجہد کا آغاز ہوا جس میں چھوٹے بڑے سیاسی اجتماعات کارنر میٹنگ اور ڈور ٹو ڈور مہم شامل تھی۔ جو بذات خود اپنے اندر وسیع سیاسی اجتماعی فوائد رکھتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس الیکشن مہم میں مجلس وحدت مسلمین کے کارکنوں نے کم از کم 50 لاکھ سے زائد ووٹرز تک رابطہ کیا اور انہیں اپنا پیغام پہنچایا جو یقیناًعام حالات میں انتہائی مشکل کام تھا۔ 
دوسری جانب ملک کی بڑی بڑی سیاسی جماعتوں، اہم سیاسی حلقوں میں بھی مجلس وحدت مسلمین کی بڑی پذیرائی نظر آئی، یہاں تک کہ بڑی بڑی سیاسی جماعتیں یہ کہتی نظر آئیں کہ فلاں شہر میں خیمہ الیکشن لڑ سکتا ہے، اگر فلاں فلاں حلقوں میں خیمہ کا ساتھ ہو تو کامیابی یقینی ہے۔ اسی اہمیت کو پیش نظر رکھ کر مجلس وحدت مسلمین نے تین اہم سیاسی فیصلے کیے۔ جہاں جہاں مناسب سمجھا جائے وہاں خیمہ کے نشان سے خود مجلس وحدت مسلمین کے امیدوار الیکشن لڑیں خواہ کامیابی کے امکان ہوں یا نہ ہوں۔ 
اہم چیز یہ ہے سیاسی عمل میں اس انتخابی حلقے کی اہمیت اور ایک بڑے سیاسی عمل کے اندر اس کا کردار کتنا اہم ہو گا۔ 
دوم یہ کہ مختلف حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی جائے۔ ہمارے اعداد و شمار کے مطابق کم از کم 70 کے قریب ایسی سیٹیں ہیں جہاں مجلس وحدت مسلمین نے دیگر جماعتوں کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی اور ان میں پچاس فیصد سے زائد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ 
سوئم یہ کہ ایسی سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کی حمایت کی جائے جو کسی بھی حوالے سے ملک و قوم کے لیے سودمند ثابت ہو سکتی ہیں۔ 
اس حکمت عملی کے سبب مجلس وحدت مسلمین پاکستان نے موجودہ انتخابات میں بہت شاندار کامیابی حاصل کرلی کہا جاسکتا ہے کہ اگر موجودہ الیکشن کے نتائج پہلے سے طے شدہ نہ ہوتے اور ایک منصفانہ انتخابات ہوتے تو کم از کم مجلس وحدت مسلمین پانچ سے چھ قومی اسمبلی کی سیٹیں یقینی طور پر حاصل کر لیتی جبکہ صوبائی اسمبلیوں میں کم ازکم سات سے دس سیٹیں حاصل کرلیتیں ،جبکہ دو درجن سے زائد اس وقت ایسے امیدوار بھی ہیں جنہیں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی مکمل حمایت حاصل رہی ہے ۔
اس انتخابات کا ایک اور اہم اور خوشگوار پہلو اتحاد بین المسلمین اور اہل وطن کے درمیان فروغ محبت کے حوالے سے ہونے والی پیشرفت بھی ہے کہ بہت سے حلقوں میں مذہبی سیاسی جماعتوں یہاں تک کہ غیر مسلم پاکستانیوں نے بھی مجلس وحدت کے حق میں اپنے امیدوار دستبردار کئے تو کہیں حمایت کی یہ اس دعوئے کی سچائی ہے کہ جسے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے قائدین بیان کرتے ہیں کہ ’’ہماری جماعت مسلک بیسٹ ضرور ہے لیکن فرقہ پرست نہیں بلکہ یہ تمام مظلوموں کی جماعت ہے ‘‘
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے پیش کردہ سیاسی منشور کو نہ صرف صحافی حلقوں میں سراہا گیا بلکہ اس منشور کو سیاسی اور خاص کر پالیسی ساز حلقوں میں بھی بہت بڑی پذئرائی ملی یہاں تک کہ بہت سوں نے ایسے زمینی حقائق پر مبنی ایک وسیع النظر منشور قراردیا۔
اگر ہم ملک بھر میں کھڑے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے امیدواروں کے ووٹ کو دیکھیں تو باوجود بدترین دھاندلی کے ایسے ووٹ حاصل کئے جو نہ صرف امیدافزا ہیں بلکہ آنے والے کسی بھی الیکشن میں شاندار کامیابیوں کی نوید سنارہے ہیں جبکہ بہت سی ایسی جماعتیں اور شخصیات کو کئی کئی دہائیوں کی سیاسی جدوجہد کی تاریخ رکھتیں ہیں انکا ووٹ بینک مجلس وحدت مسلمین کے امیدواروں سے کئی درجے کم نظر آتا ہے ۔
یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ کامیابی کی جانب جانے والا راستہ کسی ایک قدم سے ہی شروع ہوتا ہے اور اجتماعی سیاسی کاموں کا کانیچرل اور قدرتی سفر ہی اس کی کامیابی کی ضمانت ہوا کرتا ہے ،لہذا مجلس وحدت مسلمین پاکستان کو بھی اپنے سیاسی سفر کو اسی قدرتی اور طبیعی انداز سے جاری رکھنا ہوگا تاکہ مطلوبہ نتائج کا حصول ممکن ہو۔
زیل میں ہم چند ایسے فوائد کا تذکرہ فہرست وار کرینگے جو موجودہ سیاسی عمل کے ثمرات ہیں 
ملکی تاریخ میں پہلی بار اپنی شناخت اور اپنے انتخابی نشان سے الیکشن لڑا اور باوجود دھاندلی کے صوبائی سیٹ لی اور ملک بھر میں اچھے ووٹ حاصل کئے ۔
۱:ملت تشیع کی ملکی سیاسی معاملات سے لاتعلقی کا خاتمہ 
۲:ملت تشیع میں موجود سیاسی و اجتماعی مایوسی کا خاتمہ
۳:سیاسی عمل کا آغاز اور ملکی معاملات میں اپنے موقف کا بیاں
۴:ملت کی نمائندہ جماعت کا مذہبی تنظیم کی چھاپ سے نکل کر ایک بڑی مذہبی سیاسی جماعت میں تبدیل ہونا
۵:وسیع تر عوامی رابط اور نئی باصلاحیت افراد ی قوت کا دریافت ہونا جو کارکن اور ذمہ دار کی شکل میں آئندہ کردار ادا کرینگے 
۶:ملکی بڑی اور اہم سیاسی جماعتوں اور حلقوں سے روابط اور پذیرائی 
۷:مستقبل میں ایک بڑی سیاسی قوت کے طور پر شناخت اور دوسروں کی جانب سے قبولیت 
۸:اتحاد بین المسلمین کے فروغ میں مزید پیشرفت

 

ترك تعليقك

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree