دہشتگردوں سے مذاکرات ریاست کو خطرہ میں ڈالنے اور آئین سے روگردانی کے مترادف ہیں، آغا علی رضوی

24 آب/أغسطس 2013

حجتہ الاسلام آغا سید علی رضوی کا تعلق اسکردو نیورنگاہ سے ہے۔ آپ حوزہ علمیہ قم اور مشہد کے فارغ التحصیل ہیں۔ آپ بلتستان میں انقلابی تحریکوں کے سرخیل رہے ہیں۔ انجمن امامیہ بلتستان میں بھی تبلیغات کے مسئول ہیں۔ انقلابی فکر کے حامل جوانوں میں آپ کی مقبولیت غیر معمولی ہے۔ آپ کو پورے بلتستان میں مقاومت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ تمام ملی بحرانوں میں جوانوں کی نطر آپ پر ہوتی ہے۔ آپ اسلام ناب کے مبلغ، ولایت فقیہ کے پیرو اور وحدت کے علمبردار ہیں۔ آپ نے بلتستان جیسے علاقے میں ہاتھوں میں ہتھکڑیاں پہننا اور جیل کی سلاخوں کے پیچھے جانا حکومت وقت کے سامنے جھکنے سے بہتر سمجھا اور پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں گرفتار ہوئے، اگرچہ آدھا گھنٹہ گزرنے نہ پایا تھا کہ جوانوں نے حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا۔ بیورکریسی اور انتظامیہ آپ کو الجھانے کیلئے کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی۔ اس وقت مجلس وحدت مسلمین پاکستان بلتستان ڈویژن کی مسئولیت آپ کے کندھوں پر ہے۔ آپ سے اسلام ٹائمز نے ایک انٹرویو کیا ہے، جو اپنے محترم قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔

اسلام ٹائمز: پاکستان کے موجودہ حالات کو آپ کس نگاہ سے دیکھتے ہیں جبکہ پوری قوم چھیاسٹھواں یوم آزادی بھی منا چکی ہے۔؟
آغا علی رضوی: جی محترم! شکریہ آپ نے مجھے ملکی، عالمی اور علاقائی حالات پر گفتگو کا موقع دیا۔ جیسا کہ وطن عزیز کو آزاد ہوئے چھ عشرے سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے اور قوموں کی زندگی میں اتنا عرصہ نہایت اہمیت کا حامل ہوتا ہے، یہ کوئی مختصر اور معمولی دورانیہ نہیں اور جوں جوں زمانہ آگے گزرتا جا رہا ہے وطن عزیز کی مشکلات اور پریشانیوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ وطن عزیز کے دشمنوں کی سازشیں تیز ہوتی جا رہی ہیں۔ دھماکے، خودکش حملے، قتل، ڈکیتی، اغواء اور فرقہ واریت کے ذریعے ملکی استحکام و سلامتی پر ضربیں لگائی جا رہی ہیں، لیکن میرا اس بات پر یقین ہے کہ کوئی مشکل ایسی نہیں ہوتی کہ جس کے بعد آسانیاں نہ ہوں۔ یقیناً یہ باد مخالفت اونچا اڑانے کیلئے ہی ہے۔ ان تمام مشکلات کا مقابلہ قوم کرسکتی ہے، ہماری قوم میں اتنی طاقت ہے کہ ان تمام مسائل سے مقابلہ کرسکے۔ قومی حمیت، شجاعت و بہادری اور عزم و ادارے سے ان تمام مشکلات پر قابو پاکر اقبال اور جناح کا پاکستان بنا سکتے ہیں، بلکہ میں یوں کہوں کہ دشمن کو جناح اور اقبال کے خواب کی تعبیر سے ڈر لگتا ہے، اس لیے اس خواب کو شرمندہ تعبیر ہونے سے روکنے کیلئے وطن عزیز میں فسادات کروا رہے ہیں۔ تمام محب وطن پاکستانیوں کو چاہیے کہ جس طرح سے ہمارے آباء و اجداد نے اس ملک کو آزاد کرانے میں جتنی قربانیاں دی ہیں، ہم بھی اس اسلامی مملکت کو بچانے کے لیے ہر ممکن قربانی سے دریغ نہ کریں۔

اسلام ٹائمز: محترم، وطن عزیز جن مسائل اور مشکلات سے دوچار ہے، اسکے اصل ذمہ دار کون ہیں۔؟
 آغا علی رضوی: دیکھیں یہ سوال جتنا مختصر ہے جواب اتنا ہی طویل ہے، وطن عزیز کو درپیش مسائل کے ذمہ دار کون ہیں۔ فرض کریں ذمہ دار کا علم بھی ہو، تو حل ذمہ داروں کی پہچان میں نہیں، ان میں سے اکثر تو ایسے ہیں جو مرچکے ہیں، لیکن کیا انکو قبروں سے نکال دیں گے؟ بلکہ ایسا ہو کہ جو غلطیاں ماضی میں قوم سے سرزد ہوئیں، اس کی تکرار نہ ہو، ان غلطیوں سے عبرت حاصل کرنا اصل کام ہے، ماضی سے سبق لے کر حال میں وہ کردار ادا کریں کہ مستقبل سنور جائے اور یہاں میں یہ بتاتا چلوں کہ ذمہ داروں میں بیورو کریسی بھی ہے، سیاستدان بھی، فوجی جرنیل بھی ہیں اور بعض مواقع پر عوام نے بھی غلطیاں کی ہیں۔ مثلاً ملک میں فرقہ واریت کا اصل ذمہ دار ضیاء الحق ہے، اسکے ساتھ کیا کریں گے۔

اسی طرح ہمارے وطن کو اکہتر میں تقسیم کیا گیا، اس میں بیورکریسی کی غفلت تھی، آپ ان کے ساتھ کیا کرسکیں گے۔ ہم نے ان سے عبرت لینی ہے، تاکہ ان تاریخی غلطیوں کی تکرار نہ ہو اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکے۔ ملک میں بسنے والے نافہم، ناسمجھ، مفاد پرست، متعصب، جاہل، شدت پسند، بزدل لوگوں کو ہوش کے ناخن لینا چاہیں اور اپنے اپنے وسائل کو اسلام و پاکستان کی بربادی و بدنامی کی بجائے اسلام و مسلمین اور وطن عزیز کی نیک نامی اور صلح و آشتی و تعمیر و ترقی کی راہ میں استعمال کرنا چاہیے اور چند روزہ عیش و نوش و مفاد پرستی اور دشمن کے ہاتھوں کھلونا بننے کے بجائے صبر و تحمل، ہوشیاری و بیداری اور استقامت و غیرت سے اسلام و پاکستان کی سربلندی و عزت و افتخار کے لیے مسلسل جدوجہد کرنی چاہیے۔

اسلام ٹائمز: ان دنوں نئی حکومت برسر اقتدار ہے، ان کے نعرے بھی کھوکھلے معلوم ہونے لگے ہیں، دہشتگردی کا سلسلہ جاری اور دہشتگردوں کے ساتھ مذاکرات کی باتیں بھی کی جا رہی ہیں۔ کیا آپ ان مذاکرات کو ملکی سلامتی کیلئے درست سمجھتے ہیں۔؟
آغا علی رضوی: نئی حکومت کے نعرے صرف اور صرف عوام کو دھوکہ دینے کیلئے تھے۔ ان کے قول اور فعل میں واضح تضادات موجود ہیں۔ ان کی پالیسیز حقائق کے مطابق نہیں بلکہ دباو کے تحت بنائی گئی ہیں۔ حکومت جب تک ملک کو درپیش مسائل کی جڑ تک نہ پہنچ جائے تو ممکن نہیں کہ ان مسائل کا راستہ روک کر مشکلات کو حل کرسکے۔ دہشت گردی، مہنگائی، قتل و غارت وغیرہ علامات ہیں، یہ مسائل کی اصل جڑ نہیں۔ ممکن ہے اگر حقیقت کی طرف جائیں تو حکومت اور قومی و صوبائی اسمبلیوں کے اراکین ہی ان مشکلات و مسائل کے اسباب میں سے ہوں۔ خاص کر مہنگائی اور بدامنی کی ڈوریں تو سرمایہ داروں کی طرف جاتی ہیں اور حکومت ہی سرمایہ داروں کی ہے۔ حکومتوں کو گرانے اور بنانے میں بنیادی کردار ہی ان کا ہوتا ہے۔ غریب عوام تو ملک کی تقدیر کو بدلنے کیلئے ووٹ ڈالتے ہیں، لیکن اکثر اوقات ملک کی تقدیر بدلنے کی بجائے ان کے ووٹ ہی بدل جاتے ہیں۔ مسائل و مشکلات کی ایک وجہ عالمی اسکتبار و استعماری طاقتیں ہیں، جن کے ہاتھوں سرمایہ دار اور حکومتی مشینری اسیر ہے۔ جو اسلامی ممالک میں بدامنی اور دنیا میں فسادات پھیلا کر صلح و امن کے نام پر اس ملک میں مداخلت کرتی ہیں۔

بلکہ یوں کہوں تو بے جا نہ ہوگا کہ وہ اس ملک کو بلیک میل کرکے اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ مقصد کلام یہ ہے کہ ملک میں دہشت گردوں کیساتھ مذاکرات درست ہے یا غلط ہے اس پر کچھ بولنے سے قبل اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ دہشت گرد صرف ایک مائنڈ سیٹ کا نام نہیں بلکہ ان کے کئی نظریاتی گروہ ہیں، بعض کے تانے بانے امریکہ و اسرائیل سے جا ملتے ہیں اور بعض دنیا بھر میں مسلکی اختلافات ڈالنے والوں سے۔ ان تمام دہشت گردوں کا نکتہ اشتراک اپنے پسند کا دین نافذ کرنا ہے۔ انکے نزدیک باقی سب کافر ہیں، اور کافروں کو مارنا واجب ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں یہ شیطانی نظریاتی فکر برسرپیکار ہے اور انسانیت کا مذاق اڑا رہی ہے اور انکے لئے تکفیری گروہ کی اصطلاح بھی بہت مناسب ہے۔ یہ طبقہ نہ شیعوں کا دوست ہے اور نہ سنیوں کا، بلکہ وہ حضور اکرم (ص) کے اسلام کا مخالف ہے۔ ان کے نزدیک وہی اسلام درست ہے جو انکے دماغ میں ہے اور عجیب نظریہ فکر ہے کہ جو طاقتیں اسلام کے خلاف سرگرم عمل ہیں، ان کے خلاف نہ انکا فتویٰ جاری ہوتا ہے اور نہ حکم جہاد۔
 
اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ تکفیری ٹولہ عالمی استعماری اور استکباری طاقتوں کے ایجنڈے پر کاربند ہے۔ لہٰذا سب سے پہلے جہاں جہاں ان کو فکری اور نظریاتی خوارک ملتی ہے، چاہے وہ مدارس ہوں یا تنظیمیں۔ ان جگہوں پر اسلام محمدی کا پرچار کیا جائے اور امریکی و یزیدی اسلام کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ اسلام سلامتی اور امن و بھائی چارگی کا دین ہے، یہ انکو منظم طریقے سے سمجھایا جائے۔ دوسرا یہ کہ امریکہ سمیت دیگر ممالک کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہ دیں اور دوسری بات ملک میں انارکی پھیلانے والے چاہے وہ عام آدمی ہو یا سرکاری افسران، انہیں کڑی سزا دی جائے۔ ریاست کے دشمنوں کو آئین کے مطابق سزا دی جائے۔ اگر یہ سلسلہ شروع ہو جائے تو پاکستان کے آدھا سے زیادہ مسائل اسی طریقہ سے حل ہو جائیں گے، پھر دیگر مسائل کے لئے حکمت علمی کے تحت کام کیا جائے۔

آپ کے سوال کی طرف جائیں تو یہ بات واضح ہے دہشت گردوں سے مذاکرات اصل میں آئین پاکستان سے روگرانی کے مترادف ہے۔ دہشت گردوں اور قاتلوں کو آئین کے تحت سزا دی جاتی ہے۔ لٹکایا جاتا ہے نہ کہ ان کو تحفظ فراہم کریں۔ دہشت گردوں سے مذاکرات یعنی ان کا تحفظ، دہشت گردوں سے مذاکرات یعنی سزا و جزا کے اصول سے روگرانی۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشت گردوں سے تعلق رکھنے والوں کو آئین کے مطابق سزا دی جائے۔ اگر ان کے خلاف ریاست کی رٹ قائم نہیں ہوسکتی تو کل ایک ٹولہ اور ملک میں انارکی شروع کرے گا۔ جو دہشت گردوں سے مذاکرات کی بات کرتے ہیں، وہ دراصل احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں، کیونکہ پاکستان میں جو ٹولہ سرگرم عمل ہے، وہ بنیادی طور پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سر سخت مخالف ہے اور اس خطہ پر اپنی پسند اور مرضی کا آئین دیکھنا چاہتا ہے۔

اسلام ٹائمز: محترم گلگت بلتستان میں جو حالیہ افسوس ناک واقعات پیش آئے، جن میں آرمی کے اعلٰی افسران اور اس سے قبل سانحہ نانگا پربت پر غیر ملکی سیاح قتل ہوئے، ان کے پیچھے کیا اہداف ہوسکتے ہیں اور ان کے پیچھے کن کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔؟
آغا علی رضوی: آپ سانحہ نانگا پربت کو آرمی افسران کے قتل سے جدا نہ کریں، یہ دونوں ایک سلسلے کی ہی کڑی ہے اور یہ بات بھی واضح ہے کہ سانحہ نانگا پربت کی ڈوریاں بیرونی ممالک کے ہاتھ میں تھیں اور ان تفتیشی افسران کے ذریعے اصل مجرموں کا انکشاف یقینی تھا، اس لئے سانحہ نانگا پربت واقعہ کے انکوائری افسران کو راستہ سے ہی ہٹا دیا گیا۔ اس کے مقابلے میں ہماری سکیورٹی اداروں کی بے بسی بھی دیکھنے میں آئی، ورنہ کیسے ممکن ہے کہ قاتلوں کی گرفتاری نہ ہو، سانحہ چلاس، کوہستان، بابوسر، اسی طرح نانگا پربت واقعات سے سب سے زیادہ جس کو فائدہ پہنچا ہو، وہی اس کا اصل مجرم ہے۔ اگرچہ مقامی افراد کا استعمال بھی یقینی ہے۔ دیکھیں تو واضح ہو جاتا ہے کہ شاہراہ قراقرم اور گوادر کے نواحی علاقے اسٹریٹیجک کے حوالے سے اہم ہیں، پاکستان کے علاوہ یہ دونوں منصوبے چائنہ کیلئے بھی اہم ہیں، اور عالمی سطح پر چائنہ اور امریکہ رقیب ہیں، چائنہ کی معیشت کو کمزور کرنے کے لئے جہاں امریکہ کے پاس دیگر طریقے ہیں، وہاں ان علاقوں میں فسادات کروا کے چائنہ کی مشرق وسطٰی تک آسان رسائی کو خراب کرنے کے علاوہ امریکہ اپنی ان کارروائیوں سے عالم اسلام میں بے چینی پھیلانا چاہتا ہے، کیونکہ اسلامی ممالک جتنے کمزور ہو جائیں، اتنا ہی یہود و نصاریٰ کی کامیابی ہے۔ لہٰذا ان تمام فسادات کی جڑ امریکہ ہے۔ امریکہ اپنے علاوہ کسی دوسرے ملک خصوصاً اسلامی ممالک میں آزادی اور ترقی کو پسند نہیں کرتا، جس سے اسکی چوہدراہٹ کو خطرہ لاحق ہو۔
 
لہٰذا وہ اپنے سپر پاور بننے کے خواب کو سچ کرنے کے لیے ہرممکن، جائز و ناجائز طریقوں سے آزادی اور ترقی کے راستوں کو بدامنی، فسادات اور دیگر سازشوں کے ذریعے روکنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ دنیا میں جہاں جہاں بدامنی اور فسادارت نظر آتے ہیں، اگر ہم گہرائی میں جاکر دیکھیں  تو وہاں امریکہ کا ہاتھ ضرور دکھائی دیتا ہے۔ امریکہ نہ آزادی کا حامی ہے، نہ جمہوریت اور نہ ہی امن پسند اور نہ ترقی پسند۔ امریکہ دہشت گردی کا مخالف ہے نہ شدت پسندی کا، نہ آمروں کا مخالف ہے اور نہ تعصب و فساد کا، بلکہ امریکہ صرف اپنے مفادات کے پیچھے ہے، اور اپنے مفاد کے حصول اور تحفظ کے لیے کوشاں ہے۔ اس کے مفادات کی راہ میں جو رکاوٹ بنے، یہ اسکو پسند نہیں کرتا۔ اگرچہ جمہوریت، آزادی و ترقی ہی کیوں نہ ہو۔ جبکہ یہ اپنے مفادات کا تحفظ کرنے والے کو سپورٹ کرتا ہے، اگرچہ وہ آمر، قاتل، جاہل  اور مفسد ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن اب دنیا سمجھ چکی ہے، مسلمان بیدار ہوچکے ہیں، مستضعفین کو ہوش آچکا ہے، وہ وقت قریب آچکا ہے جب امریکہ و استعماری طاقتیں اپنی تمام تر ناانصافیوں اور سازشوں کے ساتھ نابود ہو جائیں گی، اور دنیا میں امن و سلامتی اور انصاف کا راج ہوگا۔ یہود و نصاریٰ اور بنی اسرائیل کی سازشوں کے جال، مکر و فریب کی چالیں اور مادیات و فحاشیات و منشیات کی جادوگری کو ختم کرنے کے لیے عصائے موسٰی ہاتھ میں لے کر بے دینی، بے غیرتی، بے حیائی  کی وباء و سرطان اور تعصب و جہل و ظلمت و ناانصافی و تاریکی و اندھیر نگری کے سر کو کچل دینے کا وقت قریب آگیا ہے۔

ترك تعليقك

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree